ایپل کا کہنا ہے کہ میک امریکہ میں ہی بنے گا

ایپل کمپنی اب میک کمپیوٹر کو خصوصی طور پر امریکہ میں ہی بنائے گی۔

این بی سی ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں ایپل کے چیف ایگزیکیٹو ٹم کک نے کہا کہ کمپنی کوشش کر رہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ کام امریکہ میں ہی کیا جائے۔

ایپل کی اکثر مصنوعات چین میں بنائی جاتی ہیں جہاں کام کرنے کے خراب حالات کی وجہ سے اسے تنقید کا سامنا ہے۔

یہ ٹم کک کا سٹیو جابز کے انتقال کے بعد نشر ہونے والا پہلا انٹرویو ہے۔ سٹیو جابز کا انتقال اکتوبر 2011 میں ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایپل کی آئی فون جیسی اہم مصنوعات پہلے ہی امریکہ میں بنائی جاتی ہیں لیکن اس کے بعد اسمبلی کے لیے دوسرے ممالک بھیج دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی فون کا انجن امریکہ میں بنتا ہے لیکن اس کے بعد برآمد کر دیا جاتا ہے۔ اس کا شیشہ بھی کنٹکی میں بنتا ہے۔ ’ہم کئی سالوں سے زیادہ سے زیادہ کام امریکہ میں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اس طرح ایپل پرچون کی دوکانوں، ریسرچ اور ڈویلپمنٹ اور ایپ بنانے والی تیسری پارٹیوں کے حوالے سے بالواسطہ طور پر چھ لاکھ ملازمتوں کا ذمہ دار ہے۔

ایپل پر اس بات کے حوالے سے بہت تنقید ہوتی رہی ہے کہ وہ دنیا کے دوسرے ممالک میں جہاں اجرت کم دی جاتی ہے زیادہ ملازمتوں کے مواقع فراہم کرتا ہے۔